دیوار گریہ
دیوار گریہ اسے مغربی دیوار (عبرانی:הכותל המערבי) بھی کہا جاتا ہے، قدیم شہر یروشلم میں واقع یہودیوں کی اہم مذہبی یادگار ہے۔ یہودیوں کے بقول 70ء کی تباہی سےہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دو ہزار سال سے یہودی زائرین آ کر رویا کرتے تھے اسی لیےاسے "دیوار گریہ" کہا جاتا ہے جبکہ مسلمان اس کو دیوارِ براق کہتے ہیں۔ یہودی نقطۂ نظر یہودی مذہب کے مطابق یہ دیوار مقدس معبد کی باقیات میں سے ہے اور اسی لیے یہودیت کے مقدس مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ یہودیوں کے لیے زیارت گاہ ہے۔ اس کے قریب ہی یہودیوں کا مقدس ترین سینا گوچ ہے، جس کوبنیادی پتھر کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر یہودی ربیوں کے مطابق اس مقدس پتھر کے اوپر، کوئی یہودی پیر نہیں رکھ سکتا اور جو ایسا کرتا ہے، عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے بہت سے یہودیوں کے مطابق وہ تاریخی چٹان جس پر قبۃ الصخرۃواقع ہے، مقدس بنیادی پتھر ہے۔ جبکہ کچھ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق یہ مقدس بنیادی پتھر دیوارِ گریہ کے بالکل مخالف سمت میں واقع الکاس آبشار کے نزدیک ہے۔ یہ مقام مقدس ترین مقام تھا، جب مقدس معبد قائم تھا۔ یہودی روایات کے مطابق دیوارِ گریہ کی تعمیر حضرت داؤد علیہ سلام نے کی تھی اور موجودہ دیوارِ گریہ اُسی دیوار کی بنیادوں پر قائم کی گئی تھی، جس کی تاریخہیکلِ سلیمانی سے جاملتی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر کچھ مسلمان اس دیوار کو مسجد اقصٰی کا حصہ بھی قرار دیتے ہیں۔ مسلمان اس دیوار کو دیوارِ براق کہتے ہیں۔ دو وجوہات کی بناء مسلمان اس دیوار کو مقدس کہتے ہیں۔ پہلی تو یہ کہ اس دیوار کو الإسراء والمعراج سے نسبت ہے، شبِ معراج میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی براق یہیں آکر رُکی تھی۔
Comments
Post a Comment